|
(یونی کوڈ خط میں)
حجة الوداع کے خطبات
اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی ہدایات فرمائیں- خطبة حجة الوداع جسے کہتے ہیں` یہ حضور کی مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے- ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں- ایک خطبہ حضور نے عرفات میں ارشاد فرمایا- یہی خطبہ سنت رسول کے طور پر اب بھی ٩ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے- ایک خطبہ ہے جو حضور نے منʞی میں ارشاد فرمایا- یہ دو تو باقاعدہ خطبے ہیں جبکہ امام قسطلانی رح نے ``المواہب اللدنیة`` میں حضرت امام شافعی رح کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے- صحابہ کرام رض لاکھوں کی تعداد میں تھے- انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطبات سنے` جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی- اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے سوالات پوچھے گئے`حضور نے ان کے جوابات دیے- حضور نے حج کے مختلف مسائل کے بارے میں بھی ہدایات دیں- صحابہ کرام کو عرفات اور منʞی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا` صحابہ کرام رض نے جو جو بات یاد رکھی اور وہ آگے منتقل کی` اس کو محدثین نے محفوظ کیا- ان سب کا مجموعہ محدثین کی اصطلاح میں حجة الوداع کا خطبہ کہلاتا ہے- اس میں عرفات و منʞی کے دو خطبے بھی شامل ہیں اور مختلف مواقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر عمومی خطابات بھی شامل ہیں-
یہ حجة الوداع کا خطبہ بیسیوں بلکہ اس سے بھی زیادہ سینکڑوں روایات میں نقل ہوا ہے- وہ زمانہ لکھنے پڑھنے کا زمانہ نہیں تھا` یادداشت کا زمانہ تھا- یادداشت پر لوگ اعتماد کرتے تھے- اس حجة الوداع کے خطبہ پر محدثین نے مختلف ادوار میں کام کیا ہے- حجة الوداع کی اہمیت کی بات تو یہ ہے کہ یہ حضور کی حیات مبارکہ میں صحابہ رض کا سب سے بڑا اجتماع تھا- اور پھر یہ کہ حضور نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ شاید یہ میری تمہاری آخری اجتماعی ملاقات ہو- پھر ایک بہت اہمیت والی بات یہ ہے کہ اس موقع پر ہی آیت تکمیل دین نازل ہوئی-
|