<< ------- >>     
(یونی کوڈ خط میں)
دین کی تکمیل کا تاریخی اعلان
بخاری شریف (رقم` ٤٢٤٠) کی روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رض سے ان کے دور خلافت میں ایک یہودی عالم نے کہا: یا حضرت ! آپ کے قرآن میں ایک آیت ایسی ہے` وہ آیت اگر ہم پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم آیت کے نازل ہونے کے دن کو عید بنا لیتے- ہم باقاعدہ ڈے مناتے اس پر کہ فلاں دن یہ آیت نازل ہوئی تھی- حضرت عمر رض نے پوچھا` کون سی آیت؟ اس نے کہا: `الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا`- (المائدہ ٣:٥) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے دین مکمل کر دیا ہے` اپنی نعمت تمام کر دی ہے- تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے وحی کا نزول شروع ہوا تھا` اس کے بعد مختلف پیغمبروں کے ذریعے ہدایات و احکام نازل ہوتے رہے` جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک وحی کا یہ سلسلہ چلتا رہا- احکام آتے بھی رہے` منسوخ بھی ہوتے رہے` ان میں ترامیم بھی ہوتی رہیں- یہ ایک ارتقا کا اور تدریج کا عمل تھا- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پراللہ تعالیٰ نے وحی کا کام مکمل کر دیا- اب قیامت تک کوئی وحی نہیں ہوگی اور نہ احکام میں رد و بدل ہوگا اور نہ ہی کوئی نیا حکم آئے گا- تو تکمیل کا معنی یہ ہے کہ وہ وحی جو آدم علیہ السلام پر نازل ہونا شروع ہوئی تھی` وہ تدریج اور ارتقا کے مراحل طے کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوئی ہے-
چنانچہ جب غلبۂ دین مکمل ہوا تو حجة الوداع اس کا سب سے بڑا مظہر تھا کہ اتنی شان و شوکت اس سے پہلے مسلمانوں کو کبھی نصیب نہیں ہوئی- اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اعلان فرمایا: الیوم اکملت لکم دینکم`- آج کے دن میں تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے- واتممت علیکم نعمتی`-اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے- ورضیت لکم الاسلام دینا`- اور میں تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں- آج کے بعد میں کسی انسان سے اسلام ہی کا دین قبول کروں گا اور کوئی دین قبول نہیں کروں گا- تو اس یہودی عالم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ یا امیر المؤمنین! یہ آیت اگر ہم پر تورات میں نازل ہوئی ہوتی تو ہم آیت کے نزول والے دن کو عید بنا لیتے- حضرت عمر رض نے کہا کہ اللہ کی قدرت ہے کہ ہم پر یہ آیت نازل ہی عید والے دن ہوئی ہے- تم تو عید بنا لیتے` ہماری پہلے سے عید ہے- فرمایا یوم النحر کو منٰی میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور میں اس موقع پر موجود تھا- یوم النحر یعنی عید الاضحی اور قربانی کا دن- حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہماری تو دو عیدیں تھیں- سالانہ عید بھی تھی اور ہفتہ وار عید بھی تھی` یعنی وہ جمعة المبارک کا دن تھا-